ابنا: تہران کے فلسطين اسکوائر پر واقع مسجد امام صادق عليہ السلام کے سامنے ہونے والے اس احتجاجي اجتماع ميں شريک قاريوں، حافظوں، محققين اور اساتذہ حضرات کي بہت بڑي تعداد شريک تھي اور وہ توہين آميز فلم کي مذمت ميں نعرے لگا رہے تھے- اجتماع کے شرکاء نے اللہ اکبر، مردہ باد امريکہ، مردہ باد اسرائيل، لاالہ الااللہ محمد روسول اللہ جيسے نعرے لگا کر اسلام دشمنوں کي مذموم شازشوں پر اپنے غم وغصے اور آنحضور صلي اللہ عليہ واليہ وسلم کے ساتھ عقيدت و محبت کا اظہار کيا-فلسطين اسکوائر پر ہونے والے اجتماع ميں شريک لوگوں نے اپنے ہاتھوں ميں ايسے پلے کارڈ بھي اٹھا رکھے تھے جن پر توہين آميز فلم کي مذمت ميں نعرے درج تھے-اجتماع ميں شريک ايران کے بعض عالمي شہرت يافتہ قاريوں نے تلاوت کلام پاک بھي کي- اجتماع کے اختتام پر ايک قرار داد بھي جاري کئي گئي جس ميں توہين رسالت مآب صلي اللہ عليہ واليہ وسلم کي شديد الفاظ ميں مذمت کي گئي ہے- اجتماع ميں خادمين قران کريم نے مسجد امام صادق عليہ السلام ميں نماز ظہرين کي ادائيگي کے بعد احتجاجي اجتماع ختم کرديا- دوسري جانب تہران کي يونيورسٹيوں اور ديني مدارس کے طلباء نے فرانسيسي سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کرکے توہين آميز خاکے شائع کئے جانے کي مذمت کي ہے-مظاہرے میں شريک طلباء فرانسيسي کومک جريدے چارلي ہيبدو کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور انکا مطالبہ تھا کہ اس گھناؤنے فعل ميں ملوث لوگوں کو سزا دي جائے-فرانسيسي سفارتخانے کے سامنے تہران کے يونيورسٹي طلبا نے اپنے مظاہرے ميں " لبييک يا رسول اللہ ، لبيک يا محمد ، فرانس مردہ باد، امريکا مردہ باد اور اسرائيل مردہ باد کے نعرے لگائے –تہران کے يونيورسٹي طلبا نے اسي کے ساتھ دنيا کے تمام مسلمانوں سے اپيل کي ہے کہ اپنے اپنے ملکوں ميں فرانس کے سفارتخانوں کے سامنے اجتماع کريں اور اپني ديني اقدار و حيثيت کا دفاع کريں - ايک ايسے وقت ميں جب ساري دنيا کے مسلمان توہين آميز امريکي فلم کے حلاف مظاہرے کر رہے ہيں فرانسيسي جريد چارلي ايبدو نے پيغمبر اسلام حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ والہ وسلم کي شان اقدس ميں توہين آميز خاکے شائع کئے ہيں.
.....
/169